Urwatul-Wusqaa - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
سوائے ابلیس کے کہ اس نے تکبر کیا اور وہ (فرشتوں سے نہیں بلکہ) کافروں میں سے تھا
ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کر کے اس طرح سوال پوچھا گیا 74۔ ابلیسی طاقت و قوت کو مخاطب کرنے والا کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس طرح پوچھنا ہی انسانی شرف وعزت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر تخلیق آدم کوئی معمولی کام ہوتا تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعہ سے یہ بات پوچھتا لیکن قرآن کریم میں یہ خطاب ہر جگہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ رب کریم کا بنفس نفیس یہ استفسار کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی افضل و اشرف کام تھا اور اس بات کی ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بنفس نفیس کسی کو خطاب اللہ تعالیٰ کے جسمانی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ انسانی تفہیم اور کام کی اہمیت کے مطابق یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں اور یہی حال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پائوں اور چہرہ ہونے کے متعلق ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں ( خلقت بیدی) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور بلاشبہ یہ بھی شرف انسانی ہی کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں اور دونوں ہاتھوں کے استعارہ سے اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کی جنس میں سے ایک نوع ہے دوسرے یہ کہ اس کے اندر ایسی روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف و افضل ہوگیا۔ اس مبالغہ کے باعث کہیں اللہ تعالیٰ کے خرچ کرنے کو دونوں ہاتھوں سے خرچ کرنا ارشاد فرمایا اور کہیں دونوں ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ کے دائیں قرار دے دیا گیا اس سے کسی شکل و صورت کا تصور سوائے نادانی و جہل کے کچھ نہیں ہے سوال کی نوعیت میں استفسار اس طرح کیا جا رہا ہے کہ کیا تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ؟ یہ محض اسی طاقت وقوت کی نافرمانی کے باعث کہا گیا ہے۔
Top