Urwatul-Wusqaa - Saad : 76
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ
قَالَ : اس نے کہا اَنَا : میں خَيْرٌ : بہتر مِّنْهُ ۭ : اس سے خَلَقْتَنِيْ : تو نے پیدا کیا مجھے مِنْ نَّارٍ : آگ سے وَّخَلَقْتَهٗ : اور تو نے پیدا کیا اسے مِنْ : سے طِيْنٍ : مٹی
ابلیس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں (اس لیے کہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے بنایا
فرمایا تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہے تیرے رہنے کے یہ جگہ نہیں 76۔ زیر نظر آیت میں وہی بات بیان کی جارہی ہے جس کے متعلق آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو (انا عالم) کہے وہ جاہل ہوتا ہے۔ ابلیسی طاقت وقوت نے بھی یہی کہا کہ ” میں اس سے بہتر ہوں “ اور یہی جملہ اس کے کہتر ہونے کو ثابت کر گیا اس لیے کہ انسانی خوبیوں میں سے یہ بھی ایک خوبی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بڑا نہ کہے کیونکہ اپنے منہ میاں مٹھو بننا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ ادنیٰ اور گھٹیا ہونے کی نشانی ہے۔
Top