Urwatul-Wusqaa - Saad : 78
وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ
وَّاِنَّ : اور بیشک عَلَيْكَ : تجھ پر لَعْنَتِيْٓ : میری لعنت اِلٰى : تک يَوْمِ الدِّيْنِ : روز قیامت
اور بلاشبہ تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (یعنی رحمت سے دوری) رہے گی
78۔ زیر نظر آیت نے اس بات کی پوری پوری وضاحت کردی کہ بات کا یہ سارا سوانگ اس دنیوی زندگی کے اتار چرھائو بیان کنرے اور اس کی تفہیم کرانے کے لیے رچایا گیا ہے تاکہ انسان کو اس کی اپنی زندگی اور اپنی حقیقت واضح ہوجائے کہ وہ کیا ہے ؟ اور دنیا کے ان سارے باپ دادا والوں کی حقیقت اس نے واضح فرما دی کہ یہ طاقت و قوت کا نام جو رکھا گیا وہی نام لعنت خداوندی کی نشاندہی کرتا ہے اور نیز اس سے آپ نے اخروی زندگی کے لزوم کو بھی ثابت کردیا کہ دنیا تب ہی دنیا ہے جب کہ آخرت اس کے ساتھ موجود ہے کیونکہ ہرچیز کی نقیض اس کے وجود کا اثبات کرتی ہے۔ صرف اور صرف ایک ہی واجب الوجود ہے جو اپنی نقیض نہیں رکھتا اور اس کی صحیح پہچان بھی یہی ہے ورنہ دنیا کی ہرچیز اپنی نقیض سے پہچانی جاتی اور شناخت کی جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی لعنت کا لفظ ہی اس کی رحمت کی وسعت کو بیان کر رہا ہے۔
Top