Urwatul-Wusqaa - Saad : 79
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب فَاَنْظِرْنِيْٓ : پس تو مجھے مہلت دے اِلٰى : تک يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : جس دن اٹھائے جائیں گے
ابلیس نے کہا اے میرے رب ! مجھ کو اس دن تک (کہ لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں مہلت دے دے
شیطان نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت دے 79۔ زیر نظر آیت نے یہ راز مزید کھول دیا کہ اس جگہ ابلیس یا شیطان جس طاقت یا قوت کو کہا گیا ہے وہ بذاتہ ایک مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی نے تخلیق کیا ہے اور اسی کی مشیت سے وہ اجازت یافتہ ہے اگرچہ منبع برائی ہے تاہم نیکی بھی اس کے وجود کی مرہون منت ہے اگر یہ شر کی طاقت وقوت نہ ہوتی تو نیکی اور خیر کا وجود بھی خود بخود معدوم ہوجائے ۔ بلاشبہ اس کا ہونا ناگزیر تھا۔ اسی طاقت اور قوت کو مشخص کر کے بیان کرنے ہی سے ہر انسان کی تفہیم ممکن تھی اور یہی طریقہ اختیار کیا گیا اگرچہ فی نفسہ وہ مشخص نہ ہو۔ اس کی مزید وضاحت سورة الحجر میں ملے گی۔
Top