Urwatul-Wusqaa - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم میں سے اس پر نصیحت اتاری گئی ہے ؟ بلکہ وہ میری وحی کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
کیا نبوت کے لیے اللہ نے اس کو پسند کیا ہے اور مال واولاد میں ہم کو 8۔ ہر جماعت کے اندر ایک قسم کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بہت اقسام کے لوگ ہوتے ہیں اور کسی نبی ورسول سے پوری قوم کا ایک ہی طرح کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ قسم قسم کے اختلاف ہوتے تھے لیکن ہر قسم کے لوگوں کو اختلاف تو ہوتا ہی تھا اس لیے یہ مختلف قسم کے اختلاف رکھنے والے آپس میں مل بیٹھتے اور اپنے زمانہ کے نبی ورسول سے مل کر اختلاف کرتے یہی صورت انبیاء کرام کو پیش آئی اور یہی صورت آج بھی لوگوں کو در پیش ہے بہرحال ان مختلف اختلافات میں سے ایک قسم کا اختلاف یہ بھی تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ قوم کے و ڈیرے تھے جن کی بات چیت اس دور میں چلتی تھی انہوں نے مل کر آپس میں مشورہ کر کے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ اچھا اگر نبوت اللہ کو دینا ہی تھی تو کیا للہ کو سارے وڈیروں میں سے کوئی ایک بھی پسند نہ آیا اور سب کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو اللہ نے پسند کرلیا حالانکہ ہم سب یہاں موجود ہیں جن کی بات چیت چلتی ہے اور لوگ ہم کو پوچھتے ہیں اور کوئی کام مکہ میں اور طائف میں ہمارے مشورہ کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ مکہ اور طائف کا نام ہم نے خواہ مخواہ نہیں لیا بلکہ قرآن ِ کریم نے خود دوسری جگہ وضاحت پیش کی ہے ، چناچہ ارشاد ہے کہ (وقالوا۔۔۔۔ ) (الذخرف 43 : 31) ” اور کہنے لگے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن کریم کسی ایسے آدمی پر جو ان دو شہروں میں بڑا ہے۔ “ (القریتین) سے مراد مکہ اور طائف ہے اور مطلب یہ ہے کہ مکہ اور طائف دو بڑی بڑی بستیاں ہیں اور ان دونوں بستیوں میں بڑے برے لوگ رہتے ہیں اگر نبوت اللہ کو دینا ہی تھی تو ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی کو اللہ عطا کرتا تاکہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہوتے اور کوئی اس کی بات کو سن بھی لیتا اور یہی بات زیر نظر آیت میں کہی گئی ہے۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام یہ لوگ میرے ذکر کے معاملہ میں شک میں مبتلا ہیں یعنی ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ فی الواقعہ یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے اور معلوم ہے کہ یہ اس شک میں کیوں مبتلا ہیں ؟ فرمایا وہ اس طرح کی باتیں اس لیے بنا رہے ہیں کہ ہمارے عذاب کا کوڑا ابھی تک ان کی پشت پر نہیں لگا اور مثل ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جب اللہ کی بےآواز لاٹھی ان پر چلے گی تو ان کا سارا خمار اتر جائے گا۔
Top