Urwatul-Wusqaa - Saad : 84
قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ
قَالَ : اس نے فرمایا فَالْحَقُّ ۡ : یہ حق (سچ) وَالْحَقَّ : اور سچ اَقُوْلُ : میں کہتا ہوں
اللہ نے فرمایا سچ بات ہے (کہ تجھے مہلت دی گئی) اور میں سچ ہی کہتا ہوں
اللہ تعالیٰ نے اس کو خبردار کردیا کہ میرا کہنا ہی حق ہے 84۔ ابلیس کی اس بات کو کہ میں تیرے ان انسانوں کو جن کو تو نے اشرف المخلوقات ٹھہرایا ہے گمراہ کرنے کی پوری پوری کوشش کروں گا اور میں اپنا جال تو سب پر یکساں پھینکوں گا لیکن تیرے خالص بندے میرے اس جال میں نہیں پھنسیں گے کیونکہ انہوں نے توبہ کا ڈنڈا اپنے ہاتھ میں پوری طاقت سے پکڑ لیا ہے اس لیے وہ میرے اس جال میں آنے والے نہیں اور کہیں آ بھی گئے تو اس توبہ کے ڈنڈے سے جال کو توڑ دیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کے اس قول کو سچ بتایا اور (فالحق) کا لفظ بول کر واضح کردیا کہ کوئی کتنا برا کیوں نہ ہو جس سچی بات کو وہ کہتا ہے وہ اس کے کہنے سے جھوٹ نہیں ہوجاتی بلکہ وہ جہاں جائے سچ ہی رہتی ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو لیکن افسوس کہ آج ہمارے علمائے اسلام اس اصول کو بالکل فراموش کرچکے ہیں اور انہوں نے جو قواعد و ضوابط سچ اور جھوٹ کے پرکھنے کے قائم کیے ہیں ان میں اس کی قطعا گنجائش نہیں چھوڑی کہ سچ ہر حال میں سچ ہی ہوتا ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو اور جھوٹ ہر حال میں جھوٹ ہی ہوتا ہے خواہ اس کا کہنے والا کوئی ہو اور یہ کہ نہایت سچا انسان بھی کبھی بھول کر ہی سہی جھوٹ کہہ سکتا ہے اور نہایت ہی جھوٹا انسان بھی کبھی کوئی سچی بات کہہ دیتا ہے لیکن اس جھوٹے کے سچی بات کہہ دینے سے سچی بات پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ ہر حال میں سچ ہی رہتی ہے۔ غور کرو کہ ابلیس جو مجسمہ برائی اور شر ہے جب اس نے ایک بات کہی جو بلاشبہ سچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سچ کو سچ تسلیم کیا اور اس کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تو نے بھی یہ سچ کیا اگرچہ تو بہت جھوٹ کہنے والا ہے تا ہم میری بات بھی کان کھول کر سن لے میں ہمیشہ سچ کہتا ہوں اور پھر سچی بات آنے والی آیت میں بیان کردی۔
Top