Ahsan-ul-Bayan - Saad : 6
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
تو تحمل کرتا رہ اس پر جو وہ کہتے ہیں اور یاد کر ہمارے بندے داؤد قوت والے کو وہ تھا رجوع رہنے والاف 9
9  حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس جگہ ان کو (داؤد کا قصہ) یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی " طالوت " کے (عہد) حکومت میں بہت صبر کیا۔ آخر حکومت ان کو ملی اور (جالوت وغیرہ) مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہ ہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ " (تنبیہ) " ذالاید " کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب نے " ہاتھ کے بل والا " کیا ہے۔ یعنی قوت سلطنت، یا ادھر اشارہ ہو کہ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا۔ یا " ہاتھ کا بل ' یہ کہ سلطنت کا مال نہ کھاتے اپنے دس وبازو سے کسب کر کے کھاتے۔ اور " اواب ' یعنی ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع رہتے تھے۔
Top