Urwatul-Wusqaa - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
(اور اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور نہ ہی مجھ کو تصنع آتا ہے
اے پیغمبر اسلام ! آپ بھی اعلان کردیں کہ میں پیغام الہٰی پر کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا 86۔ یہ اعلان وہی اعلان ہے جو سارے انبیاء و رسل سے کرایا گیا اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے بھی اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بار بار دہرایا اور صرف دہرایا ہی نہیں گیا بلکہ اس پر سختی کے ساتھ قائم بھی رہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نبوت و رسالت کا پیغام پہنچایا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ میں اس معاملہ میں بےغرض انسان ہوں۔ آپ کی مکی زندگی میں قریش کے سرداروں کی طرف سے کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ آپ کو جتنا مال و دولت چاہیے ہو اکٹھا کردیتے ہیں اور اپنا قائد و راہنما بھی تسلیم کرلیتے ہیں کئی بڑے سے بڑے خاندان قریش کی مصابرت آپ چاہتے ہوں تو پیش کردیتے ہیں آپ اپنے پیغام میں تھوڑی سی لچک ڈال دیں یا اگر چاہیں تو اللہ میاں سے یہ نرمی کرا دیں لیکن ان کی ساری اسکیمیں فیل ہوگئیں اور آپ نے ان کی کسی بات پر کان نہ رکھا اور زیر نظر آیت میں مزید یہ بھی فرمایا گیا کہ میں ان لوگوں میں سے بھی نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی الواقع وہ نہٰں ہوتے اور آپ کی پوری زندگی اس پر شاہد وگواہ ہے کہ آُ نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ فرمایا اور آپ کے اس سچ کا غیروں نے بھی اعتراف کیا اور مخالفین ومعاندین نے بھی واضح الفاظ میں اس کی تصدیق کی۔ اس کی شہادت کے لیے قیصر کے دربار میں ابو سفیان کی سفارت کے بیان کو دیکھ لیں۔
Top