Urwatul-Wusqaa - Saad : 87
اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ
اِنْ : نہیں هُوَ اِلَّا : یہ مگر ذِكْرٌ : نصیحت لِّلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے
نہیں ہے وہ ( قرآن کریم) مگر سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے
قرآن کریم سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے 87۔ قرآن کریم کی ہدایات ابدی اور لا بدی ہیں اور ان سے دنیا جہان کے سارے انسان برابر مستفید ہو سکتے ہیں یہ کسی خاص قوم ، برداری اور خاندانوں کی راہنمائی کے لیے نہیں اتارا گیا بلکہ اس کا نزول تمام جہانوں کے لیے ہے جو شخص بھی اور جہاں بھی کوئی اس سے استفادہ کرنا چاہے گا وہ استفادہ کرسکے گا اور جو قوم وشخص بھی اس کے اصول کو اپنائے گا وہ اس کے نتیجہ کو حاصل کرلے گا۔ آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ اگر مسلمانوں نے باوجود اس کی کثرت تلاوت کے اس کی ہدایات سے عملی سستی اختیار کی ہے تو وہ اس کے نتجہ سے دوچار ہو رہا ہیں اور اس طرح جن لوگوں نے بھی اور جہان بھی ان سنہری اصولوں کو اپنانے کو کوشش کی ہے انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے جس سے پوری دنیا کا نقسہ بدل کر رہ گیا ہے افسوس کہ ہمارے مفسرین اور علمائے گرامی قدر نے اس آیت پر اس طرح نہیں لکھا جیسا کہ ان کو لکھنا چاہیے تھا بلکہ اکثر اس سے بڑی لا پروائی سے گزر گئے ہیں اور اس پر کچھ کہنا گوارا ہی نہیں کیا بلکہ اس سنہری اصول کو جو ایک بہت بڑی نصیحت کے طور پر نازل کیا گیا اس کی صرف تلاوت ہی پر انحصار کیا گیا اور غیر مسلم قوموں نے اس کے مفہوم کو چوری کر کے اس کو پورے زور سے شائع کیا اور اس کے سنہری اصولوں کو اپنا کر دنیوی زندگی کے فوائد حاصل کیے اور کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو قرآن کریم کی روح سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کی اور کر رہے ہیں جس میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے اور ہو رہے ہیں۔
Top