Tafseer-e-Usmani - Saad : 22
اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ
اِذْ دَخَلُوْا : جب وہ داخل ہوئے عَلٰي : پر۔ پاس دَاوٗدَ : داؤد فَفَزِعَ : تو وہ گھبرایا مِنْهُمْ : ان سے قَالُوْا : انہوں نے کہا لَا تَخَفْ ۚ : خوف نہ کھاؤ خَصْمٰنِ : ہم دو جھگڑنے والے بَغٰى : زیادتی کی بَعْضُنَا : ہم میں سے ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر فَاحْكُمْ : تو آپ فیصلہ کردیں بَيْنَنَا : ہمارے درمیان بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَلَا تُشْطِطْ : اور زیادتی (بےانصافی نہ) کریں وَاهْدِنَآ اِلٰى : اور ہماری رہنمائی کریں طرف سَوَآءِ : سیدھا الصِّرَاطِ : راستہ
جب گھس آئے داؤد کے پاس تو ان سے گھبرایا1 وہ بولے مت گھبرا ہم دو جھگڑتے ہیں زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر سو فیصلہ کر دے ہم میں انصاف کا اور دور نہ ڈال بات کو اور بتلا دے ہم کو سیدھی راہ2
1  حضرت داؤد نے تین دن کی باری رکھی تھی۔ ایک دن دربار اور فصل خصومات کا، ایک دن اپنے اہل و عیال کے پاس رہنے کا، ایک دن خالص اللہ کی عبادت کا۔ اس دن خلوت میں رہتے تھے دربان کسی کو آنے نہ دیتے۔ ایک دن عبادت میں مشغول تھے کہ ناگاہ کئی شخص دیوار پھاند کر ان کے پاس آکھڑے ہوئے داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت و شوکت کے یہ ناگہانی ماجرا دیکھ کر گھبرا اٹھے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے۔ آدمی ہیں تو ناوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟ دربانوں نے کیوں نہیں روکا ؟ اگر دروازے سے نہیں آئے تو اتنی اونچی دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی خدا جانے ایسے غیر معمولی طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ غرض اچانک یہ عجیب و مہیب واقعہ دیکھ کر خیال دوسری طرف بٹ گیا اور عبادت میں جیسی یکسوئی کے ساتھ مشغول تھے، قائم نہ رہ سکی۔ 2  آنے والوں نے کہا کہ آپ گھبرائیے نہیں اور ہم سے خوف نہ کھائیے۔ ہم دو فریق اپنے ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ آپ ہم میں منصفانہ فیصلہ کر دیجئے۔ کوئی بےراہی اور ٹالنے کی بات نہ ہو۔ ہم عدل و انصاف کی سیدھی راہ معلوم کرنے کے لیے آئے ہیں (شاید گفتگو کا یہ عنوان دیکھ کر حضرت داؤد زیادہ متعجب ہوئے ہوں)
Top