Tafseer-e-Usmani - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
پھر ہم نے معاف کردیا اس کو وہ کام6  اور اس کے لیے ہمارے پاس مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا7
6 یعنی اس قصہ کے بعد داؤد کو تنبہ ہوا کہ میرے حق میں یہ ایک فتنہ اور امتحان تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اپنی خطا معاف کرانے کے لیے نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے جھک پڑے۔ آخر خدا نے ان کی وہ خطا معاف کردی۔ داؤد (علیہ السلام) کی وہ خطا کیا تھی ؟ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اس کے متعلق مفسرین نے بہت سے لمبے چوڑے قصے بیان کیے ہیں۔ مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر ان کی نسبت لکھتے ہیں۔ " قد ذکر المفسرون ھہنا قصۃً اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ۔ " اور حافظ ابو محمد ابن حزم نے کتاب الفصل میں بہت شدت سے ان قصوں کی تردید کی ہے باقی ابو حیان وغیرہ نے ان قصوں سے علیحدہ ہو کر آیات کا جو محمل بیان کیا ہے وہ بھی تکلف سے خالی نہیں۔ ہمارے نزدیک اصل بات وہ ہے جو ابن عباس سے منقول ہے۔ یعنی داؤد (علیہ السلام) کو یہ ابتلاء ایک طرح کے اعجاب کی بناء پر پیش آیا۔ صورت یہ ہوئی کہ داؤد (علیہ السلام) نے بارگا ایزدی میں عرض کیا کہ اے پروردگار ! رات اور دن میں کوئی ساعت ایسی نہیں جس میں داؤد کے گھرانے کا کوئی نہ کوئی فرد تیری عبادت (یعنی نماز یا تسبیح و تکبیر) میں مشغول نہ رہتا ہو۔ (یہ اس لیے کہا کہ انہوں نے روزو شب کے چوبیس گھنٹے اپنے گھر والوں پر نوبت بہ نوبت تقسیم کر رکھے تھے تاکہ ان کی عبادت خانہ کسی وقت عبادت سے خالی نہ رہنے پائے) اور بھی کچھ اس قسم کی چیزیں عرض کیں (شاید اپنے حسن انتظام وغیرہ کے متعلق ہوں گی) اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی، ارشاد ہوا کہ داؤد یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے۔ اگر میری مدد نہ ہو تو تو اس چیز پر قدرت نہیں پاسکتا۔ (ہزار کوشش کرے، نہیں نباہ سکے گا) قسم ہے اپنے جلال کی میں تجھ کو ایک روز تیرے نفس کے سپرد کر دوں گا۔ (یعنی اپنی مدد ہٹا لوں گا۔ دیکھیں اس وقت تو کہاں تک اپنی عبادت میں مشغول رہ سکتا اور اپنا نظام قائم رکھ سکتا ہے) داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! مجھے اس دن کی خبر کر دیجئے۔ بس اسی دن فتنہ میں مبتلا ہوگئے (اخرج ہذالاثر الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسنادو اقربہ الذہبی فی التلخیص) یہ روایت بتلائی ہے کہ فتنہ کی نوعیت صرف اسی قدر ہونی چاہیے کہ جس وقت داؤد عبادت میں مشتغل ہوں باوجود پوری کوشش کے مشتغل نہ رہ سکیں اور اپنا انتظام قائم نہ رکھ سکیں۔ چناچہ آپ پڑھ چکے کہ کس بےقاعدہ اور غیر معمولی طریقہ سے چند اشخاص نے اچانک عبادت خانہ میں داخل ہو کر حضرت داؤد کو گھبرا دیا اور ان کے شغل خاص سے ہٹا کر اپنے جھگڑے کی طرف متوجہ کرلیا۔ بڑے بڑے پہرے اور انتظامات ان کو داؤد کے پاس پہنچنے سے نہ روک سکے۔ تب داؤد کو خیال ہوا کہ اللہ نے میرے اس دعوے کی وجہ سے اس فتنہ میں مبتلا کیا۔ لفظ " فتنہ " کا اطلاق اس جگہ تقریباً ایسا سمجھو جیسے ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت حسن و حسین ؓ بچپن میں قمیص پہن کر لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے حضور ﷺ نے منبر پر سے دیکھا اور خطبہ قطع کر کے ان کو اوپر اٹھا لیا اور فرمایا صدق اللہ " انما اموالکم واولادکم فتنۃ " بعض آثار میں ہے کہ بندہ اگر کوئی نیکی کرے کہتا ہے کہ " اے پروردگار ! میں نے یہ کام کیا، میں نے صدقہ کیا، میں نے نماز پڑھی، میں نے کھانا کھلایا۔ " تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اور میں نے تیری مدد کی اور میں نے تجھ کو توفیق دی۔ " اور جب بندہ کہتا ہے کہ اے پروردگار تو نے مدد کی، تو نے مجھ کو توفیق بخشی اور تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ " تو اللہ کہتا ہے " اور تو نے عمل کیا تو نے ارادہ کیا تو نے یہ نیکی کمائی۔ " (مدارج السالکین، ج 1 ص 99) اسی سے سمجھ لو کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کا اپنے حسن انتظام کو جتلاتے ہوئے یہ فرمانا کہ اے پروردگار ! رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں میں یا میرے متعلقین تیری عبادت میں مشتغل نہ رہتے ہوں کیسے پسند آسکتا تھا۔ بڑوں کی چھوٹی چھوٹی بات پر گرفت ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک آزمائش میں مبتلا کردیے گئے تاکہ متنبہ ہو کر اپنی غلطی کا تدارک کریں۔ چناچہ تدارک کیا اور خوب کیا۔ میرے نزدیک آیت کی بےتکلف تقریر یہ ہی ہے۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے اسی مشہور قصہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ موضح القرآن میں دیکھ لیا جائے۔ 7  یعنی بدستور مقرب بارگاہ ہیں اس غلطی سے تقرب اور مرتبہ میں فرق نہیں آیا۔ صرف تھوڑی سی تنبیہ کردی گئی۔ کیونکہ مقربین کی چھوٹی غلطی بھی بڑی سمجھی جاتی ہے۔ " حسنات الابرار سیأت المقربین " گرچہ یک مو بدگنہ کو جستہ بود لیک آں مودر دودیدہ راستہ بود بود آدم دیدہ نور قدیم موئے دردیدہ بود کوہ عظیم۔
Top