Tafseer-e-Usmani - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور تعجب کرنے لگے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہنے لگے منکر یہ جادوگر ہے جھوٹا5
5  یعنی آسمان سے کوئی فرشتہ آتا تو خیر ایک بات تھی۔ ہم ہی میں سے ایک آدمی کھڑا ہو کر ہم کو ڈرانے دھمکانے لگے اور کہے میں آسمان والے خدا کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ عجیب بات ہے اب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ ایک جادوگر نے جھوٹا ڈھونگ بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جادو کے زور سے کچھ کرشمے دکھا کر انہیں معجزہ کہنے لگے اور چند قصے کہانیاں جمع کر کے جھوٹا دعویٰ کردیا کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے علوم ہیں۔ اور میں اس کا پیغمبر ہوں۔
Top