Tafseer-e-Usmani - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف2
2  قرآن کریم کے تتبع سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر یا ایذاء کا یا کسی مقصد صحیح کے فوت ہونے کا ہو ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا۔ " وما انسانیہ الا الشیطان ان اذکرہ " (کہف، رکوع 9) کیونکہ اکثر اس قسم کی چیزوں کا سبب قریب یا بعید کسی درجہ میں شیطان ہوتا ہے۔ اسی قاعدہ سے حضرت ایوب نے اپنی بیماری یا تکلیف یا آزار کی نسبت شیطان کی طرف کی گویا تواضعاً وتأدباً یہ ظاہر کیا کہ ضرور مجھ سے کچھ تساہل یا کوئی غلطی اپنے درجہ کے موافق صادر ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں یہ آزار پیچھے لگا۔ یا حالت مرض و شدت میں شیطان القائے وساوس کی کوشش کرتا ہوگا اور یہ اس کی مدافعت میں تعب و تکلیف اٹھاتے ہوں گے۔ اس کو نصب و عذاب سے تعبیر فرمایا۔ واللہ اعلم۔ (تنبیہ) حضرت ایوب کا قصہ " سورة انبیاء " میں گزر چکا۔ وہاں ملاحظہ کرلیا جائے مگر واضح رہے کہ قصہ گویوں نے حضرت ایوب کی بیماری کے متعلق جو افسانے بیان کیے ہیں ان میں مبالغہ بہت ہے۔ ایسا مرض جو عام طور پر لوگوں کے حق میں تنفر اور استقدار کا موجب ہو انبیاء (علیہم السلام) کی وجاہت کے منافی ہے کما قال تعالیٰ (لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) 33 ۔ الاحزاب :69) لہذا اسی قدر بیان قبول کرنا چاہیے جو منصب نبوت کے منافی نہ ہو۔
Top