Tafseer-e-Usmani - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور چل کھڑے ہوئے کئی نیچ ان میں سے کہ چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر6  بیشک اس بات میں کوئی غرض ہے7
6 یعنی اور لیجئے ! اتنے بیشمار دیوتاؤں کا دربار ختم کر کے صرف ایک خدا رہنے دیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات کیا ہوگی کہ اتنے بڑے جہان کا انتظام اکیلے ایک خدا کے سپرد کردیا جائے۔ اور مختلف شعبوں اور محکموں کے جن خداؤں کی بندگی قرنوں سے ہوتی چلی آتی تھی وہ سب یک قلم موقوف کردی جائے۔ گویا ہمارے باپ دادے نرے جاہل اور بیوقوف ہی تھے جو اتنے دیوتاؤں کے سامنے سر عبودیت خم کرتے رہے۔ روایات میں ہے کہ ابو طالب کی بیماری میں ابو جہل وغیرہ چند سرداران قریش نے ابو طالب سے آن کر حضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اور ہمیں طرح طرح سے احمق بناتے ہیں۔ آپ ان کو سمجھائیے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے چچا ! میں ان سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کی خدمت میں جزیہ پیش کرنے لگے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلائیے وہ کلمہ کیا ہے، آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ فرمایا زیادہ نہیں بس ایک اور صرف ایک ہی کلمہ ہے ' لا الہ الا اللہ " یہ سنتے ہی طیش میں آکر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا اتنے خداؤں کو ہٹا کر اکیلا ایک خدا۔ چلو جی ! یہ اپنے منصوبے سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ یہ تو انہی ہمارے معبودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ تم بھی مضبوطی سے اپنے معبودوں کی عبادت و حمایت پر جمے رہو۔ مباد ان کا پروپیگنڈا کسی ضعیف الاعتقاد کا قدم پرانے آبائی طریقہ سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائے۔ ان کی ان تھک کوشش کے مقابلہ میں ہم کو بہت زیادہ صبر و استقلال دکھانے کی ضرورت ہے۔ 7  یعنی محمد ﷺ جو اس قدر زور و شور اور عزم و استقلال سے ہمارے معبودوں کے خلاف جہاد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ضرور اس میں ان کی کوئی غرض ہے، وہ یہ ہی کہ ایک خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم اور مطیع بنالیں اور دنیا کی حکومت و ریاست حاصل کریں۔ سو لازم ہے کہ اس مقصد میں ہم ان کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ بعض مفسرین نے " ان ہذا لشیئً یراد " کا مطلب یہ لیا ہے کہ بیشک یہ وہ چیز ہے جس کا محمد ﷺ ارادہ ہی کرچکے ہیں۔ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ بات (معلوم ہوتا ہے) ہونے والی ہے۔ اللہ کو یہ ہی منظور ہے کہ دنیا میں انقلاب ہو۔ لہذا جہاں تک ہو سکے صبر و تحمل سے اپنے قدیم دین و آئین کی حفاظت کرتے رہو۔ یا ممکن ہے ازراہ تحقیر کہا ہو کہ بیشک محمد ﷺ کے ارادے سب کچھ ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ آدمی جو راہ اور تمنا کرے وہ پوری ہو۔ چاہیے کہ ہم ان کے مقابلہ میں قدم پیچھے نہ ہٹائیں۔
Top