Tafseer-e-Usmani - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
یہ نہیں سنا ہم نے اس پچھلے دین میں اور کچھ نہیں یہ بنائی ہوئی بات ہے8
8   حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پچھلا دین کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو۔ یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔ پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ " اور ممکن ہے پچھلے دین سے عیسائی مذہب مراد ہو۔ جیسا کہ اکثر سلف کا قول ہے۔ یعنی نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو بھی ہم نے نہیں سنا کہ سب خداؤں کو ہٹا کر ایک خدا رہنے دیا ہو۔ آخر وہ بھی تین خدا تو مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ اگر پہلی کتابوں میں کچھ اصل ہوتی تو وہ ضرور قبول کرتے۔ معلوم ہوا کہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔ العیاذ باللہ۔
Top