Tafseer-e-Usmani - Saad : 72
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب سَوَّيْتُهٗ : میں درست کردوں اسے وَنَفَخْتُ : اور میں پھونکوں فِيْهِ : اس میں مِنْ : سے رُّوْحِيْ : اپنی روح فَقَعُوْا : تو تم گر پڑو لَهٗ : اس کے لیے ( آگے) سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ہوئے
پھر جب ٹھیک بنا چکوں اور پھونکوں اس میں ایک اپنی جان2 تو تم گر پڑو اس کے آگے سجدہ میں
2  یعنی ڈھانچہ ٹھیک تیار کر کے اپنی طرف سے ایک روح پھونکوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کہ " روحی " (اپنی جان) اس لیے فرمایا کہ آب و خاک سے نہیں بنی۔ عالم غیب سے آئی۔ " کچھ مضمون روح کے متعلق سورة " بنی اسرائیل " میں گزرا ہے۔ وہاں روح کی اس اضافت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Top