Tafseer-e-Usmani - Saad : 76
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
مگر ابلیس نے3 غرور کیا اور تھا وہ منکروں میں4
3  یہ قصہ سورة " بقرہ "، " اعراف " وغیرہ کئی سورتوں میں گزر چکا اعراف کے فوائد میں ہم نے مفصل بحث کی ہے اسے ایک مرتبہ دیکھ لیا جائے۔ 4  حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ (ابلیس اصل سے) جن تھا جو اکثر خدا کے حکم سے منکر ہے۔ لیکن اب (اپنی کثرت عبادت وغیرہ کے سبب سے) رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ "
Top