Tafseer-e-Usmani - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
فرمایا اے ابلیس کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے5 یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں6 
5  حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب (باطن) کے ہاتھ سے۔ اللہ غیب کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں دوسری طرح کی قدرت سے بناتا ہے اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی۔ " ( سورة " مائدہ " میں پارہ ششم کے ختم کے قریب "ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ " کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے) ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعوت وصفات میں سلف کا مسلک ہی اقوی و احوط ہے۔ 6 یا جان بوجھ کر اپنے کو بڑا بنانا چاہا۔ یا واقعے میں تو اپنا مرتبہ ہی اونچا سمجھتا ہے۔
Top