Tafseer-e-Usmani - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا اسی پر اتری نصیحت ہم سب میں سے9 کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے میری نصیحت میں کوئی نہیں ابھی انہوں نے چکھی نہیں میری مار10
9  یعنی اچھا قرآن کو اللہ کا کلام ہی مان لو اور یہ بھی نہ سہی کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نبی بنا کر بھیجا جاتا مگر یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا۔ کیا سارے ملک میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے ؟ اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا جس پر اپنا کلام نازل کرتا۔ 10  یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی نامعقول یادہ گوئی کا جواب ہوا۔ یعنی ان کی یہ خرافات کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا۔ کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت خدائی مار پڑے گی۔ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔
Top