75. Al-Qiyaamaالقيامة
The Resurrection · Meccan · 40 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ﴿1﴾
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ﴿2﴾
اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (کہ ہم انسان کو ضرور دوبارہ زندہ کریں گے)اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ﴿3﴾
کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کرسکیں گے ؟بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ﴿4﴾
کیوں نہیں ؟ جبکہ ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو ٹھیک ٹھیک بنادیں۔بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ﴿5﴾
اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا یہ ہے کہ اپنی آگے کی زندگی میں بھی ڈھٹائی سے گناہ کرتا ہے۔یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ﴿6﴾
پوچھتا ہے کہ : کب آئے گا وہ قیامت کا دن ؟فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ﴿7﴾
پھر جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ﴿8﴾
اور چاند بےنور ہوجائے گا۔وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ﴿9﴾
اور چاند اور سورج اکٹھے کردئے جائیں گے۔یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ﴿10﴾
اس وقت انسان کہے گا کہ : کہاں ہے کوئی جگہ جہاں بھاگ کر جاؤں ؟كَلَّا لَا وَزَرَؕ﴿11﴾
نہیں نہیں ! پناہ کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ﴿12﴾
اس دن تو ہر ایک کو تمہارے پروردگار ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا پڑے گا۔یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ﴿13﴾
اس دن ہر انسان کو جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کیا کچھ آگے بھیجا ہے، اور کیا کچھ پیچھے چھوڑا ہے۔بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ﴿14﴾
بلکہ انسان خود اپنے آپ سے اچھی طرح واقف ہوگا۔وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ﴿15﴾
چاہے وہ کتنے بہانے بنائے۔لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ﴿16﴾
(اے پیغمبر) تم اس قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو ہلایا نہ کرو۔اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ﴿17﴾
یقین رکھو کہ اس کو یاد کرانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے۔فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ﴿18﴾
پھر جب ہم اسے (جبرائیل کے واسطے سے) پڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کروثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ﴿19﴾
پھر اس کی وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ﴿20﴾
خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ﴿21﴾
اور آخرت کو نظر انداز کئیے ہوئے ہو۔وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ﴿22﴾
اس دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے۔اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ﴿23﴾
اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ﴿24﴾
اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ﴿25﴾
سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو کمر توڑ دینے والا ہے۔كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ﴿26﴾
خبردار ! جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ﴿27﴾
اور (تیمار داروں کی طرف سے) کہا جائے گا کہ : ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ﴿28﴾
اور انسان سمجھ جائے گا کہ جدائی کا وقت آگیا۔وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ﴿29﴾
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ع﴿30﴾
تو اس دن تمہارے پروردگار ہی کی طرف روانگی ہوگی۔فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ﴿31﴾
اس کے باوجود انسان نے نہ مانا، اور نہ نماز پڑھی۔وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ﴿32﴾
بلکہ حق کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ﴿33﴾
پھر اکڑ دکھاتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ﴿34﴾
بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ﴿35﴾
پھر سن لے کہ بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ﴿36﴾
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ﴿37﴾
کیا وہ اس منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (ماں کے رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ﴿38﴾
پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اسے بنایا، اور اسے ٹھیک ٹھاک کیا،فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ﴿39﴾
نیز اسی سے مرد اور عورت کی دو صفتیں بنائیں۔اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ع﴿40﴾
کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو پھر سے زندہ کردے ؟