Sunan Abu Dawood 3250صحیح
باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول ﷺ نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث :بآبائكم تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر (رض) نے کہا : قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الإیمان ٤ (٦٦٤٧) ، صحیح مسلم/ الأیمان ١ (١٦٤٦) ، سنن النسائی/ الأیمان ٤ (٣٧٩٨، ٣٧٩٩) ، سنن ابن ماجہ/ الکفارات ٢ (٢٠٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٨، ٣٦) (صحیح )
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words by your fathers. This version adds: Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others.