Sunan Abu Dawood 999صحیح
نماز میں سلام پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخْذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.
اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے ۔
تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٢٠٧) (صحیح )
The aforesaid tradition has also been narrated by Mis’ar through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds: Is it not sufficient for one of you or for one of them that he puts his hand on his thigh, and then gives the salutation to his brother to his right and left sides.