Maarif-ul-Hadith 1656
سادگی اور خستہ حالی بھی ایک ایمانی رنگ ہے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ اَيَاسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ، أَلَا تَسْمَعُونَ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ» (رواه ابوداؤد)
حضرت ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم سنتے نہیں ، کیا تم سنتے نہیں (یعنی سنو اور غور سے سنو اور یاد رکھو) کہ سادگی اور خستہ حالی بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے ، یہ آپ نے مکرر ارشاد فرمایا ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ظاہری سادگی و خستہ حالی ، اور زینت و آرائش کی طرف سے بےفکری یا کم توجہی ، اندرونی ایمانی کیفیت سے بھی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ ایمان ہی کا ایک شعبہ اور ایک رنگ ہے ۔