Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1371 - 1737)
Select Hadith
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
1391
1392
1393
1394
1395
1396
1397
1398
1399
1400
1401
1402
1403
1404
1405
1406
1407
1408
1409
1410
1411
1412
1413
1414
1415
1416
1417
1418
1419
1420
1421
1422
1423
1424
1425
1426
1427
1428
1429
1430
1431
1432
1433
1434
1435
1436
1437
1438
1439
1440
1441
1442
1443
1444
1445
1446
1447
1448
1449
1450
1451
1452
1453
1454
1455
1456
1457
1458
1459
1460
1461
1462
1463
1464
1465
1466
1467
1468
1469
1470
1471
1472
1473
1474
1475
1476
1477
1478
1479
1480
1481
1482
1483
1484
1485
1486
1487
1488
1489
1490
1491
1492
1493
1494
1495
1496
1497
1498
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
1574
1575
1576
1577
1578
1579
1580
1581
1582
1583
1584
1585
1586
1587
1588
1589
1590
1591
1592
1593
1594
1595
1596
1597
1598
1599
1600
1601
1602
1603
1604
1605
1606
1607
1608
1609
1610
1611
1612
1613
1614
1615
1616
1617
1618
1619
1620
1621
1622
1623
1624
1625
1626
1627
1628
1629
1630
1631
1632
1633
1634
1635
1636
1637
1638
1639
1640
1641
1642
1643
1644
1645
1646
1647
1648
1649
1650
1651
1652
1653
1654
1655
1656
1657
1658
1659
1660
1661
1662
1663
1664
1665
1666
1667
1668
1669
1670
1671
1672
1673
1674
1675
1676
1677
1678
1679
1680
1681
1682
1683
1684
1685
1686
1687
1688
1689
1690
1691
1692
1693
1694
1695
1696
1697
1698
1699
1700
1701
1702
1703
1704
1705
1706
1707
1708
1709
1710
1711
1712
1713
1714
1715
1716
1717
1718
1719
1720
1721
1722
1723
1724
1725
1726
1727
1728
1729
1730
1731
1732
1733
1734
1735
1736
1737
معارف الحدیث - کتاب المعاملات والمعاشرت - حدیث نمبر 404
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا » (رواه مسلم)
طہارت جزو ایمان ہے
ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کہ طہارت و پاکیزگی جوز ایمان ہے اور کلمہ الحمد للہ میزان عمل کر بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ والحمدللہ بھر دیتے ہیں آسمان کو اور زمین کو، اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اجالا ہے اور قرآن یا تو حجت ہے تمہارے حق میں یا حجت ہے ہے تمہارے خلاف، ہر آدمی صبح کرتا ہے پھر وہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے پھر یا تو اسے نجات دلا دیتا ہے یا اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
طہارت و پاکیزگی کی حقیقت اور دین میں اس کا مقام اسلام میں طہارت و پاکیزگی کی حیثیت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ نماز، تلاوتِ قرآن اور طوافِ کعبہ جیسی عبادات کے لئے لازمی شرط ہے، بلکہ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بجائے خود بھی دین کا ایک اہم شعبہ اور بذات خود بھی مطلوب ہے۔ قرآن مجید کی آیت ١ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ۰۰۲۲۲ (۱) (اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک و صاف رہنے والے اپنے بندوں کو محبوب رکھتا ہے)۔ اور قبا کی بستی میں رہنے والے اہل ایمان کی تعریف میں قرآن مجید کا ارشاد فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ (۲) (اس میںہمارے ایسے بندے ہیں۔ جو بڑے پاکیزگی پسند ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک و صاف رہنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے)۔ صرف ان ہی دو آیتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں طہارت و پاکیزگی کی بجائے خود کتنی اہمیت ہے۔ اس طرح آگے پہلے ہی نمبر صحیح مسلم کی جو حدیث درج کی جارہی ہے اس کے پہلے فقرے " الطُّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ " کا گویا لفظی ترجمہ ہی یہ ہے کہ طہارت و پاکیزگی اسلام کا ایک حکم ہی نہیں بلکہ وہ دین و ایمان کا ایک اہم جزو ہے۔ اور ایک دوسری حدیث میں اس کو " نصف ایمان " فرمایا گیا۔ ہمارے استاذ الاساتذہ اور شیخ المشائخ حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ کی ایک نفیس تحقیق قابل ذکر ہے، اپنی بے نظیر کتاب " حجۃ اللہ البالغۃ " میں فرماتے ہیں: " کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے خاص فضل سے یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ فلاح و سعادت جس شاہراہ کی طرف انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہوئی (جس کا نام شریعت ہے) اگرچہ اس کے بہت سے ابواب ہیں اور ہر باب کے تحت سینکڑوں احکام ہیں لیکن اپنی بے پناہ کثرت کے باوجود وہ سب بس ان چار اصولی عنوانوں کے تحت آتے ہیں طہارت، اخبات، سماحت، عدالت۔ (۳) پھر شاہ صاحب نے ان میں سے ہر ایک کی حقیقت بیان کی ہے جس کے مطالعے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ بلا شبہ ساری شریعت بس ان ہی چار حصوں میں منقسم ہے۔ یہاں ہم شاہ صاحب کے کلام کے صرف اس حصے کا خلاصہ درج کرتے ہیں جس میں انھوں نے طہارت کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ایک سلیم الفطرت اور صحیح المزاج انسان جس کا قلب بہیمت کے سفلی تقاضوں سے مغلوب اور ان میں مشغول نہ ہو، جب وہ کسی نجاست سے آلودہ ہو جاتا ہے یا اس کو پیشاب یا پاخانہ کا سخت تقاضا ہوتا ہے یا وہ جماع وغیرہ سے فارغ ہوا ہوتا ہے وہ اپنے نفس میں ایک خاص قسم کا انقباض و تکدر اور گرانی و بے لطفی اور اپنی طبیعت میں سخت ظلمت کی ایک کیفیت محسوس کرتا ہے، پھر جب وہ اس حالت سے نکل جاتا ہے مثلاً پیشاب یا پاخانہ کا جو سخت تقاضا تھا اس سے وہ فارغ ہو جاتا ہے اور اچھی طرح استنجا اور طہارت کر لیتا ہے یا اگر وہ جماع سے فارغ ہوا تھا تو غسل کر لیتا اور اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن لیتا ہے اور خوشبو لگا لیتا ہے تو نفس کے انقباض و تکدر اور طبیعت کی ظلمت کی وہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور اس کے بجائے اپنی طبیعت میں وہ ایک انشراح و انبساط اور سرور فروخت کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ بس دراصل پہلی کیفیت کا نام " حدث " (ناپاکی) اور دوسری کا نام " طہارت " (پاکی و پاکیزگی) ہے، اور انسانوں میں جن کی فطرت سلیم اور جن کا وجدان صحیح ہے وہ ان دونوں حالتوں اور کیفیتوں کے فرق کو واضح طور پر محسوس کرتے ہیں اور اپنی طبیعت و فطرت کے تقاضے سے " حدث " کی حالت کو ناپسند اور دوسری کو (یعنی " طہارت " کی حالت) پسند کرتے ہیں۔ اور نفس انسانی کی یہ طہارت کی حالت ملاء اعلیٰ یعنی " ملئكة الله " کی حالت سے بہت مشابہت و مناسبت رکھتی ہے کیوں کہ وہ دائمی طور پر بہیمی آلودگیوں سے پاک و صاف اور نورانی کیفیات سے شاداں و فرحاں رہتے ہیں اور اسی لئے حسبِ امکان طہارت و پاکیزگی کا اہتمام و دوام انسانی روح کو ملکوتی کمالات حاصل کرنے اور الہامات و منامات کے ذریعے ملاء اعلیٰ سے استفادہ کرنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ اور اس کے برعکس جب آدمی حدث اور ناپاکی کی حالت میں ڈوبا رہتا ہے تو اس کو شیاطین سے ایک مناسبت و مشابہت حاصل ہو جاتی ہے اور شیطانی وساوس کی قبولیت کی ایک خاص استعداد اور صلاحیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی روح کو ظلمت گھیر لیتی ہے "۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص ۵۴ ج ۱) شاہ صاحب کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ طہارت اور حدث دراصل انسانی روح اور طبیعت کی مذکورہ بالا دو حالتوں کا نام ہے اور ہم جن چیزوں کو حدث یا ناپاکی اور طہارت یا پاکیزگی کہتے ہیں وہ دراصل ان کے اسباب و موجبات ہیں اور شریعت ان ہی اسباب پر احکام جاری کرتی ہے اور انہی سے بحث کرتی ہے۔ امید ہے کہ طہارت کی حقیقت اور روح انسانی کے لئے اس کی ضرورت و اہمیت سمجھنے کے لئے شاہ صاحب کا یہ کلام ان شاء اللہ کافی ہو گا۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ طہارت و پاکیزگی شریعت کا پورا چوتھائی حصہ ہے۔ پھر اسی کتاب " حجۃ اللہ البالغہ " کے ایک دوسرے مقام پر جہاں طہارت کے احکام اور ان کے اسرار ہی کا بیان ہے فرماتے ہیں: طہارت کی تین قسمیں ہیں، ایک حدث سے طہارت (یعنی جن حالتوں میں غسل یا وضو واجب یا مستحب ہے۔ ان حالتوں میں غسل یا وضو کر کے شرعی طہارت و پاکیزگی حاصل کرنا۔ دوسرے ظاہری نجاست اور پلیدی سے جسم یا اپنے کپڑوں کو یا جگہ کو پاک کرنا۔۔۔ تیسرے جسم کے مختلف حصوں میں جو گندگیاں اور میل و کچیل پیدا ہوتا رہتا ہے اس کی صفائی کرنا (جیسے دانتوں کی صفائی ناک کے نتھنوں کی صفائی، ناخن اور زیر ناف بالوں کی صفائی) آگے طہارت کے متعلق جو حدیثیں درج ہوں گی ان میں سے بعض کا تعلق مطلق طہارت سے ہو گا جو ان تینوں قسموں پر حاوی ہے اور بعض کا تعلق کسی ایک خاص قسم سے ہو گا ....... اس تمہیدی بیان کے بعد اب طہارت سے متعلق حدیثیں پڑھئے۔ تشریح۔۔۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کا ایک خطبہ ہے جس میں آپ ﷺ نے دین کے بہت سے حقائق بیان فرمائے ہیں اس کا صرف پہلا جزو اور پہلا فقرہ (الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ) طہارت سے متعلق ہے اور اسی وجہ سے یہ حدیث کتب حدیث میں " كتاب الطهارة " میں درج کی جاتی ہے شطر کے معنی نصف اور آدھے کے ہیں بلکہ اسی مضمون کی ایک اور حدیث جو امام ترمذی نے ایک دوسرے صحابی سے روایت ہے اس میں " الطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ " (۱) ہی کے الفاظ ہیں لیکن اس عاجز کے نزدیک شطر و نصف دونوں لفظوں کا مطلب یہاں یہی ہے کہ طہارت و پاکیزگی ایمان کا خاص جزو اور اس کا اہم شعبہ اور حصہ ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ کا جو کلام اوپر نقل ہوا ہے اس سے یہ حقیقت اتنی واضح اور روشن ہو چکی ہے جس پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ طہارت و پاکیزگی کی یہ اہمیت بیان فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تمہید کا اجر و ثواب اور اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے، تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنے کا مطلب اپنے اس یقین کا اظہار اور اس کی شہادت ادا کرنا ہوتا ہے کہ اللہ کی مقدس ذات ہر اس بات سے پاک اور برتر ہے جو اس کی شان الوہیت کے مناسب نہ ہو اور تحمید یعنی الحمدللہ کہنے کا مطلب اپنے یقین کا اظہار اور اس شہادت کا ادا کرنا ہوتا ہے کہ ساری خوبیاں اور سارے کمالات جن کی بنا پر کسی کی حمد و ثناء کی جا سکتی ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات میں ہے اور اس لئے بس ساری حمد و ستائش بس اسی کے لئے ہے یہی تسبیح و حمد حق تعالیٰ کی نورانی اور معصوم مخلوق فرشتوں کا خاص وظیفہ ہے۔ قرآن مجید میں خود فرشتوں کا یہ بیان خود ان ہی کی زبانی نقل کیا گیا ہے۔ " نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ " (خدا وندا! ہم تیری حمد و تسبیح میں مصروف رہتے ہیں)۔ پس انسانوں کے لئے بھی بہترین وظیفہ اور مقدس ترین شغل یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اور سارے عالم کے خالق و پروردگار کی تسبیح کریں رسول اللہ ﷺ نے اسی ترغیب کے لئے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ ایک کلمہ سبحان اللہ میزان عمل کو بھر دیتا ہے اور اس سبھان اللہ کے ساتھ الحمدللہ بھی مل جائے تو ان دونوں کا نور زمین و آسمان کی ساری فضاؤں کو معمور و منور کر دیتا ہے۔ " سبحان الله " سے میزان اعمال کا بھر جانا اور " سبحان الله والحمدلله " سے آسمان و زمین کا معمور ہو جانا یہ ان حقائق میں سے ہے جن کے ادراک کا حاسہ یہاں ہم کو نہیں دیا گیا۔ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں پر اس قسم کی حقیقتوں کو کبھی کبھی یہاں بھی منکشف فرما دیتا ہے، ہم عوام کا حصہ یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیان فرمائی ہوئی ان حقیقتوں پر ایمان لائیں، انکا یقین کریں اور ان سے عمل کا فائدہ اٹھائیں۔ حمد و تسبیح کی اس فضیلت اور ترغیب کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بارے میں فرمایا ہے کہ " وہ نور ہے " اس دنیا میں نماز کی اس خصوصیت کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ اس کی برکت سے قلب میں ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو اللہ کے وہ بندے خود محسوس کرتے ہیں جن کی نمازیں حقیقی نمازیں ہیں پھر اسی نور کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی فواحش و منکرات سے بچتا ہوا چلتا ہے اسی کو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے " اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ " (بلا شبہ نماز میں یہ خاصیت ہے کہ وہ آدمی کو فواحش و منکرات سے روکتی ہے) اور آخرت کی منزلوں میں نماز کی اس نورانیت کا ظہور اس طرح ہو گا کہ وہاں کی اندھیریوں میں نماز روشنی اور اجالا بن کر نمازی کے ساتھ ہو گی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ " نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ " (اللہ کے نیک صالح بندوں کے آگے آگے اور داہنی جانب ان کے اعمال کا نور دوڑتا ہو گا) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صدقے کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دلیل و برہان ہے اس دنیا میں صدقے کے برہان ہونے کا مطلب بظاہر یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اس امر کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ صدقہ کرنے والا بندہ مومن و مسلم ہے، اگر دل میں ایمان نہ ہو تو اپنی کمائی کا صدقہ کرنا آسان نہیں ہے۔ " گر زر طلبی سخن درین است " اور آخرت میں اس خصوصیت کا ظہور اس طرح ہو گا کہ صدقہ کرنے والے مخلص بندے کے صدقے کو اس کے ایمان اور اس کی خدا پرستی اور نشانی مان کر اس کو انعامات سے نوازا جائے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صبر کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ " ضیاء " یعنی روشنی اور اجالا ہے بعض حضرات نے نماز اور صدقہ کی مناسبت سے یہاں لفظ صبر سے مراد روزہ لیا ہے، لیکن ناچیز کے نزدیک راجح یہ ہے کہ صبر یہاں اپنے اصل وسیع معنی ہی میں استعمال ہوا ہے قرآن و حدیث کی زبان میں صبر کے اصل معنی ہیں " اللہ کے حکم کے تحت نفس کی خواہشات کو دبانا اور اس راہ میں تلخیاں اور ناگواریاں برداشت کرتے رہنا " اس لحاظ سے صبر گویا پوری دینی زندگی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور اس میں نماز، صدقہ، روزہ، حج اور جہاد اور ان کے علاوہ اللہ کے لئے اور دین کے احکام کی پابندی میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کرنا اور اپنی نفسانی خواہشات کو دبائے رکھنا، سب ہی اس کے مفہوم میں داخل ہے اور اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ صبر " ضیاء " ہے قرآن مجید میں چاند کی روشنی " نور " اور سورج کی روشنی کو " ضیاء " فرمایا گیا ہے " هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَّ الْقَمَرَ " (یونس ۵: ۱۰) اس لحاظ سے صبر اور نماز سے پیدا ہونے والی روشنیوں میں نسبت ہو گی جو سورج اور چاند میں ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں فرمایا ہے کہ یا تو وہ تمہارے واسطے اور تمہارے حق میں دلیل یا تمہارے خلاف! ...... مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کا ہدایت نامہ ہے اب اگر تمہارا تعلق اور رویہ اس کے ساتھ عظمت و احترام اور اتباع کا ہو گا جیسا کہ ایک صاحب ایمان کا ہونا چاہئے تو وہ تمہارے لئے شاہد و دلیل بنے گا اور اگر تمہارا رویہ اس کے برخلاف ہو گا تو پھر اس کی شہادت تمہارے خلاف ہو گی۔ ان تنبیہات و ترغیبات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آخرت میں ارشاد فرمایا ہے کہ " اس دنیا کا ہر انسان خواہ وہ کسی حال اور کسی مشغلہ میں زندگی گزار رہا ہو وہ روزانہ اپنے نفس اور اپنی جان کا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ اس کو نجات دلانے والا ہے یا ہلاک کرنے والا ہے "۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی ایک مسلسل تجارت اور سودا گری ہے، اگر وہ اللہ کی بندگی اور رضا طلبی والی زندگی گزار رہا ہے تو اپنی ذات کے لئے بڑی اچھی کمائی کر رہا ہے اور اس کی نجات کا سامان فراہم کر رہا ہے اور اگر اس کے برعکس وہ نفس پرستی اور خدا فراموشی کی زندگی گزار رہا ہے تو وہ اپنی تباہی اور بربادی کما رہا ہے اور اپنی دوزخ بنا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی ان ترغیبات و تنبیہات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
Top