Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (969 - 1049)
Select Hadith
969
970
971
972
973
974
975
976
977
978
979
980
981
982
983
984
985
986
987
988
989
990
991
992
993
994
995
996
997
998
999
1000
1001
1002
1003
1004
1005
1006
1007
1008
1009
1010
1011
1012
1013
1014
1015
1016
1017
1018
1019
1020
1021
1022
1023
1024
1025
1026
1027
1028
1029
1030
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
معارف الحدیث - کتاب الحج - حدیث نمبر 438
عَنْ جَابِرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ ، وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ » (رواه احمد)
نماز کے لئے وضو کا حکم
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور (یعنی وضو) ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
ان دونوں حدیثوں میں طہور یعنی وضو کو نماز کی کنجی فرمایا گیا ہے۔ گویا جس طرح کوئی شخص کسی مقفل گھر میں کنجی سے اس کا تالا کھولے بغیر داخل نہیں ہو سکتا، اسی طرح بغیر وضو کے نماز میں داخلہ نہیں ہو سلتا۔ ان چاروں حدیثوں کی تعبیر میں اگرچہ کچھ فرق ہے لیکن حاصل اور مدعا سب کا یہی ہے کہ نماز کے قابل قبول ہونے کےلئے واضح شرط ہے۔ نماز چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور م یں حاضری اور اسے مخاطب و مناجاۃ کی اعلیٰ اور انتہائی شکل ہے، جس کے آگے اس دنیا میں ممکن نہیں، اس لئے اس کے ادب کا حق تو یہ تھا کہ ہر نماز کے لئے سارے جسم کے غسل اور بالکل پاک صاف اچھا لباس پہننے کا حکم دیا جاتا لیکن چونکہ اس پر عمل بہت مشکل ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے از راہِ کرم صرف اتنا ضروری قرار دیا کہ نماز پاک کپڑے پہن کر پڑھی جائے اور سارے جسم کے غسل کے بجائے صرف وضو کر لیا جائے جس میں وہ سارے ظاہری اعضاء دھل جاتے ہیں جو انسان کے جسم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور اس حیثیت سے وہی سارے جسم کے قائم مقام قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ نیز ہاتھ پاؤں اور چہرہ اور سر یہی وہ اعضاء ہیں جو عام طور پر لباس سے باہر رہتے ہیں اس لئے وضو میں صرف انہی کے دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وضو نہ ہونے کی حالت میں طبیعت میں جو ایک خاص قسم کا روحانی تکدر اور انقباض ہوتا ہے اور وضو کرنے کے بعد انشراح و انبساط کی ایک خاص کیفیت اور ایک خاص طرح کی لطافت و نورانیت جو انسان کے باطن میں پیدا ہوتی ہے۔ جن بندگانِ خدا کو ان کیفیتوں کا احساس اور تجربہ ہوتا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ نماز کے لئے وضو کو لازمی شرط قرار دیے جانے کا اصل راز کیا ہے، باقی اتنی بات تو ہم سب عوام بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مقدس اور عالی بارگاہ میں حاضری کا یہ ادب ہے۔ اللہ کے جو بندے صرف اتنی بات سمجھ کر بھی وضو کریں گے۔ ان شاء اللہ وہ بھی اپنے وضو میں ایک خاص لذت و نورانیت محسوس کریں گے۔
Top