اخیافی بھائی یا بہنوں کی میراث کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اخیافی بھائی اور اخیافی بہنیں جب کہ میت کی اولاد ہو یا اس کے بیٹے کی اولاد ہو یعنی پوتے یا پوتیاں یا میت کا باپ یا دادا موجود ہو تو ترکے سے محروم رہیں گے البتہ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ترکہ پائیں گے اگر ایک بھائی اخیافی یا ایک بہن اخیافی ہو تو اس کو چھٹا حصہ ملے گا اگر دو ہوں تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اگر دو سے زیادہ ہوں تو ثلث (تہائی) مال میں سب شریک ہوں گے برابر برابر بانٹ لیں گے بہن بھی بھائی کے برابر لے گی کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے جو کلالہ ہو یا کوئی عورت مرجائے کلالہ ہو کر اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن (اخیافی جیسے سعد بن ابی وقاص کی قرأت میں ہے) ہو تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اگر اس سے زیادہ ہوں (یعنی ایک بھائی اور ایک بہن یا دو بہنیں دو بھائی یا اس سے زیادہ ہوں) تو وہ سب ثلث (تہائی) میں شریک ہوں گے (یعنی مرد اور عورت سب برابرپائیں گے۔