مؤطا امام مالک - - حدیث نمبر 3513
قَالَ مَالِك كُلُّ شَيْءٍ صِيدَ فِي الْحَرَمِ أَوْ أُرْسِلَ عَلَيْهِ كَلْبٌ فِي الْحَرَمِ فَقُتِلَ ذَلِكَ الصَّيْدُ فِي الْحِلِّ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَعَلَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ جَزَاءُ الصَّيْدِ فَأَمَّا الَّذِي يُرْسِلُ كَلْبَهُ عَلَى الصَّيْدِ فِي الْحِلِّ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يَصِيدَهُ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّهُ لَا يُؤْكَلُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ جَزَاءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَرْسَلَهُ عَلَيْهِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الْحَرَمِ فَإِنْ أَرْسَلَهُ قَرِيبًا مِنْ الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ جَزَاؤُهُ
حرم کے شکار کا بیان
کہا مالک نے جو جانور شکار کیا جائے حرم میں یا کتا شکاری جانور پر حرم میں چھوڑا جائے لیکن وہ حل میں جا کر اس کو مارے تو وہ شکار کھانا حلال نہیں ہے اور جس نے ایسا کیا اس پر جزا لازم ہے لیکن جو کتا حل میں شکار پر چھوڑے اور وہ اس کو حرم میں لے جا کر مارے اس کا کھانا درست نہیں مگر جزا لازم نہ ہوگی الاّ یہ کہ اس نے حرم کے قریب کتے کو چھوڑا ہو اس صورت میں جزا لازم ہوگی۔
Top