مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 1529
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَهَبَ ذَلِکَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَهَبَ ذَلِکَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّمَا ذَلِکِ رَکْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ طُوفِي حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَ إِذَا دَخَلَ مَکَّةَ مُرَاهِقًا خَرَجَ إِلَی عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَطُوفُ بَعْدَ أَنْ يَرْجِعَ
طواف کے مختلف مسائل کا بیان
ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے۔
Top