مؤطا امام مالک - کتاب دیتوں کے بیان میں - حدیث نمبر 3226
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلَاحِ کَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ وَکَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَخْوَالُهُ کُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّی إِذَا اسْتَوَی عَلَی عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ قَالَ عُرْوَةُ فَلِذَلِکَ لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ قَاتِلَ الْعَمْدِ لَا يَرِثُ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ شَيْئًا وَلَا مِنْ مَالِهِ وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا وَقَعَ لَهُ مِيرَاثٌ وَأَنَّ الَّذِي يَقْتُلُ خَطَأً لَا يَرِثُ مِنْ الدِّيَةِ شَيْئًا وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ لِأَنَّهُ لَا يُتَّهَمُ عَلَى أَنَّهُ قَتَلَهُ لِيَرِثَهُ وَلِيَأْخُذَ مَالَهُ فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَرِثُ مِنْ دِيَتِهِ
دیت میں میراث کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام احیحہ بن جلاح تھا اس سے چھوٹا چچا تھا وہ اپنی ننہیال میں تھا اس کو احیحہ نے لے کر مار ڈالا اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا ہم نے پالا پرورش کیا جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا اور اسی نے لے لیا عروہ نے کہا اس وجہ سے قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد کرنے والا مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوتا نہ اس کے مال کا نہ وہ کسی وارث کو محروم کرسکتا ہے اور قتل خطا کرنے والادیت کا وارث نہیں ہوتا لیکن اور مال کا وارث ہوتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے میرے نزدیک اور مال کا وارث ہوگا۔
Top