Mishkaat-al-Masabih 84صحیح

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

عَن عَائِشَة أم الْمُؤمنِينَ قَالَتْ: «دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءُ وَلَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ أَوَ غَيْرُ ذَلِكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وهم فِي أصلاب آبَائِهِم» . رَوَاهُ مُسلم
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ایک انصاری بچے کے جنازے کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! جنت کی اس چڑیا کے لیے بشارت ہے ، اس نے کوئی برائی کی نہ اس کا وقت پایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! کیا اس کے علاوہ کوئی بات ہے ، بے شک اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا فرمائے ، انہیں جنت ہی کے لیے پیدا فرمایا جبکہ وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے اور (اسی طرح ) جہنم کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے ، انہیں جہنم ہی کے لیے پیدا فرمایا جبکہ وہ اپنے آباء کی صلب میں تھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔