Mishkaat-al-Masabih 2956صحیح
غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةٌ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ» . رَوَاهُ النرمذي وَأَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عاریۃ ‘‘ لی ہوئی چیز واپس کی جائے ، عطا کے طور پر ملی ہوئی چیز (دودھ دینے والا جانور) واپس لوٹا دی جائے ، قرض ادا کیا جائے اور ضامن تاوان بھرنے والا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔