Mishkaat-al-Masabih 3128صحیح
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
وَعَن خنساء بنت خذام: أَنْ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: نِكَاح أَبِيهَا
خنساء بنت خذام ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیوہ تھیں اور ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ۔ خنساء نے اسے ناپسند کیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں تو آپ ﷺ نے ان کا نکاح فسخ کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔\nاور ابن ماجہ کی روایت میں ہے : اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا ۔\n