Mishkaat-al-Masabih 3246صحیح
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ ساخطا عَلَيْهَا حَتَّى يرضى عَنْهَا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اور وہ (خاوند) ناراضی میں سو جائے تو صبح ہونے تک فرشتے اس (عورت) پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔\nاور صحیحین کی ہی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب کوئی آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ اس پر انکار کر دے تو آسمان والی ذات (اللہ تعالیٰ) اس پر ناراض ہو جاتی ہے حتی کہ وہ (خاوند) اس سے راضی ہو جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n