Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 6266
حارثہ بن ربیع انصاری
ربیع (یا ایک روایت کے مطابق ربیع) اصل میں حضرت حارثہ کی ماں کا نام ہے ان کے باپ کا نام سراقہ تھا۔ حضرت حارثہ جنگ بدر میں شہید ہوگئے تھے اگر یہ میدان جنگ میں نہیں تھے بلکہ اس دستہ میں شامل تھے جو دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے میدان جنگ سے الگ ایک جگہ پر مامور تھا تاکہ وہ دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور جو کچھ دیکھیں آکر خبر دیں، انہی صحابہ میں حضرت حارثہ بھی تھے جو جوان العمر اور بڑے چاق وچوبند تھے، یہ جنگ کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس جگہ کھڑے تھے کہ اچانک کسی کا ایک تیر آکر ان کے حلق میں لگا اور حضرت حارثہ اس کاری زخم کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے۔ بعد میں ان کی ماں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ جانتے ہی ہیں میری نظر میں حارثہ کی کیا حیثیت تھی مجھ کو اس سے کتنا لگاؤ تھا، کتنا پیار تھا مجھ کو بتائیے کہ وہ جنت میں گیا ہے یا دوزخ میں، اگر جنت میں گیا ہے تو صبر کروں اور اگر دوزخ میں گیا ہے تو پھر جتنا رو سکتی ہوں روؤں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا حارثہ کی ماں! وہاں ایک جنت نہیں ہے اوپر تلے کئی جنتیں ہیں اور تمہارا بیٹا فردوس اعلی میں ہے۔ حارثہ کی ماں نے یہ سن کر کہا! میں اس پر صبر کروں گی۔
Top