Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 1622
غسل میت کا طریقہ
میت کو نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردہ کا استنجا کرایا جائے لیکن رانوں اور استنجے کی جگہ غسل دینے والا اپنے ہاتھ نہ لگائے اور نہ اس پر نگاہ ڈالے بلکہ اپنے ہاتھ میں کوئی کپڑا لپیٹ لے اور جو کپڑا ناف سے زانو تک پڑا ہے اس کے اندر اندر دھلائے۔ پھر اسے وضو کرایا جائے لیکن نہ تو کلی کرائی جائے اور نہ ناک میں پانی ڈالا جائے اور نہ گٹے تک ہاتھ دھلائے جائیں۔ بلکہ منہ دھلایا جائے پھر ہاتھ کہنی سمیت، پھر سر کا مسح، پھر دونوں پیر اور اگر تین دفعہ روئی تر کر کے دانتوں اور مسوڑھوں پر اور ناک کے دونوں سوراخوں میں پھیر دی جائے تو بھی جائز ہے۔ ہاں اگر میت نہانے کی حاجت میں یا حیض و نفاس میں مرجائے تو اس طرح سے منہ اور ناک میں پانی پہنچانا ضروری ہے۔ میت کی ناک، منہ اور کانوں میں روئی بھر دی جائے تاکہ وضو کراتے اور نہلاتے وقت پانی اندر نہ جائے۔ جب وضو کرا دیا جائے تو سر اور داڑھی کو خطمی (گل خیرو) سے یا اور کسی چیز سے جیسے بیسن، کھلی اور یا صابون وغیرہ سے مل کر دھویا جائے پھر میت کو بائیں کروٹ لٹا کر بیری کے پتے یا اشنان ڈال کر پکایا ہو پانی نیم گرم تین دفعہ سر سے پیر تک ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے تو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر اسی طرح سر سے پیر تک تین دفعہ پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے جو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد میت کو اپنے بدن کی تیک لگا کر ذرا بٹھلایا جائے اور اس کے پیٹ کو آہستہ آہستہ ملا اور دبایا جائے اگر پیٹ سے کوئی پاخانہ وغیرہ نکلے تو اسے پونچھ کر دھو ڈالا جائے۔ لیکن اس صفائی کے بعد پھر دوبارہ وضو اور غسل کی ضرورت نہیں اس کے بعد پھر اس کو بائیں کروٹ پر لٹا کر کافور پڑا ہوا پانی سر سے پیر تک تین مرتبہ ڈالا جائے۔ اگر بیری کے پتے اشنان اور کافور میسر نہ آئے تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ اسی سے اسی طرح تین دفعہ نہلایا جائے۔ نہلانے کے بعد سارے دن کو کپڑے سے پونچھ دیا جائے اور پھر اس کے سر اور داڑھی پر عطر لگایا جائے اور ماتھے تک ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مل دیا جائے میت کے بالوں اور داڑھی میں کنگھی نہ کی جائے اور نہ ناخن و بال کترے جائیں۔ اسی طرح جس میت کی ختنہ نہ ہوئی ہو اس کی ختنہ بھی نہ کی جائے۔ ان تمام چیزوں سے فارغ کر کفنا دیا جائے۔
Top