Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 1548
وعن عامر الرام قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الأسقام فقال : إن المؤمن إذا أصابه السقم ثم أعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه وموعظة له فيما يستقبل . وإن المنافق إذا مرض ثم أعفي كان كالبعير عقله أهله ثم أرسلوه فلم يدر لم عقلوه ولم يدر لم أرسلوه . فقال رجل يا رسول الله وما الأسقام ؟ والله ما مرضت قط فقال : قم عنا فلست منا . رواه أبو داود
گناہوں کا کفارہ بیماری
حضرت عامر رامی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک مرتبہ) بیماریوں کا ذکر کیا، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن جب کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے نجات دیتا ہے تو وہ بیماری (نہ صرف یہ کہ) اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے (بلکہ) زمانہ آئندہ کے لئے باعث نصیحت (بھی) ہوتی ہے۔ یعنی بیماری اسے متنبہ کرتی ہے۔ (چنانچہ وہ آئندہ گناہوں سے بچتا ہے) اور جب منافق بیمار ہوتا ہے اور پھر اسے بیماری سے نجات دی جاتی ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے مالک نے باندھا اور پھر چھوڑ دیا اور اونٹ نے یہ نہ جانا کہ مالک نے اسے کیوں باندھا تھا اور کیوں چھوڑ دیا؟ (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بیماری کیا چیز ہے؟ میں تو کبھی بھی بیمار نہیں ہوا! آپ ﷺ نے فرمایا! ہمارے پاس سے اٹھ کھڑے ہو! تم ہم میں سے نہیں ہو!
تشریح
مؤمن بیماری سے صحت پانے کے بعد متنبہ ہوجاتا ہے چناچہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے گناہوں کی وجہ سے بیماری میں مبتلا ہوا تھا اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم شرمسار ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے بلکہ آئندہ گناہوں سے بھی بچتا ہے اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہے کہ جب بیماری سے صحت یاب ہوتا ہے تو اس کی مثال بالکل اس اونٹ کی سی ہوتی ہے کہ جسے اگر اس کا مالک باندھ دے تو یہ نہ جانے کہ مجھے باندھا کیوں ہے اور اگر چھوڑ دے تو یہ نہ سمجھے کہ مجھے چھوڑا کیوں ہے۔ چناچہ منافق بیماری کی وجہ سے متنبہ نہیں ہوتا نہ تو وہ نصیحت و عبرت پکڑتا ہے اور نہ گناہوں پر نادم و شرمسار ہو کر توبہ کرتا ہے اسی لئے اس کی بیماری نہ تو اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اور زمانہ آئندہ میں اس کے لئے باعث نصیحت و عبرت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے بچ سکے ؓ (فاولئک کالانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغافلون)۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی تم ہم میں سے نہیں ہو کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے اہل طریقہ میں سے نہیں ہو، کیونکہ جس طرح ہم بیماری اور بلاؤں میں مبتلا ہوئے ہیں اس طرح تم مبتلا نہیں ہوئے ہو۔
Top