Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 20
وعن أنس قال قال رجل يا رسول الله إنا كنا في دار كثر فيها عددنا وأموالنا فتحولنا إلى دار قل فيها عددنا وأموالنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذروها ذميمة . رواه أبو داود .
مکان میں بے برکتی کا ذکر
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن بارگاہ رسالت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پہلے ہم ایک مکان میں رہا کرتے تھے جس میں ہمارے افراد کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی بہت تھا، پھر ہم ایک دوسرے مکان میں منتقل ہوگئے تو اس میں ہمارے آدمیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارے مال بھی تھوڑا رہ گیا رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اس مکان کو چھوڑ دو جو برا ہے۔ (ابوداؤد )۔
تشریح
آنحضرت ﷺ کا اس مکان کو چھوڑ دینے کا حکم اس مکان کو منحوس سمجھنے کی بنا پر نہیں تھا۔ بلکہ اس مکان کی آب و ہوا اور اس کی سکونت چونکہ مکینوں کو راس نہیں آئی اس لئے آپ ﷺ نے بہتر یہی سمجھا کہ وہ مکان کو چھوڑ دیں۔ خطابی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو مکان چھوڑ دینے کا حکم اس مصلحت کے پیش نظر دیا کہ ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ سارے نقصان اور ساری جڑ مکان ہے اگر ہم اس مکان میں نہ رہتے تو نہ ہمارے آدمیوں میں کمی آتی اور نہ ہمارے مال و اسباب کا نقصان ہوتا، لہٰذا آپ ﷺ نے ان کو مکان چھوڑ دینے کا حکم ہی بہتر سمجھا۔ تاکہ ان کے غلط خیال اور واہمہ کی جڑ ہی کٹ جائے اور یہ شرک خفی کے گرداب میں نہ پھنسیں۔
Top