Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - میت کو نہلانے اور کفنانے کا بیان - حدیث نمبر 4550
غسل میت کا طریقہ
میت کو نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردہ کا استنجا کرایا جائے لیکن رانوں اور استنجے کی جگہ غسل دینے والا اپنے ہاتھ نہ لگائے اور نہ اس پر نگاہ ڈالے بلکہ اپنے ہاتھ میں کوئی کپڑا لپیٹ لے اور جو کپڑا ناف سے زانو تک پڑا ہے اس کے اندر اندر دھلائے۔ پھر اسے وضو کرایا جائے لیکن نہ تو کلی کرائی جائے اور نہ ناک میں پانی ڈالا جائے اور نہ گٹے تک ہاتھ دھلائے جائیں۔ بلکہ منہ دھلایا جائے پھر ہاتھ کہنی سمیت، پھر سر کا مسح، پھر دونوں پیر اور اگر تین دفعہ روئی تر کر کے دانتوں اور مسوڑھوں پر اور ناک کے دونوں سوراخوں میں پھیر دی جائے تو بھی جائز ہے۔ ہاں اگر میت نہانے کی حاجت میں یا حیض و نفاس میں مرجائے تو اس طرح سے منہ اور ناک میں پانی پہنچانا ضروری ہے۔ میت کی ناک، منہ اور کانوں میں روئی بھر دی جائے تاکہ وضو کراتے اور نہلاتے وقت پانی اندر نہ جائے۔ جب وضو کرا دیا جائے تو سر اور داڑھی کو خطمی (گل خیرو) سے یا اور کسی چیز سے جیسے بیسن، کھلی اور یا صابون وغیرہ سے مل کر دھویا جائے پھر میت کو بائیں کروٹ لٹا کر بیری کے پتے یا اشنان ڈال کر پکایا ہو پانی نیم گرم تین دفعہ سر سے پیر تک ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے تو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر اسی طرح سر سے پیر تک تین دفعہ پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کروٹ تک پہنچ جائے جو تختے سے لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد میت کو اپنے بدن کی تیک لگا کر ذرا بٹھلایا جائے اور اس کے پیٹ کو آہستہ آہستہ ملا اور دبایا جائے اگر پیٹ سے کوئی پاخانہ وغیرہ نکلے تو اسے پونچھ کر دھو ڈالا جائے۔ لیکن اس صفائی کے بعد پھر دوبارہ وضو اور غسل کی ضرورت نہیں اس کے بعد پھر اس کو بائیں کروٹ پر لٹا کر کافور پڑا ہوا پانی سر سے پیر تک تین مرتبہ ڈالا جائے۔ اگر بیری کے پتے اشنان اور کافور میسر نہ آئے تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ اسی سے اسی طرح تین دفعہ نہلایا جائے۔ نہلانے کے بعد سارے دن کو کپڑے سے پونچھ دیا جائے اور پھر اس کے سر اور داڑھی پر عطر لگایا جائے اور ماتھے تک ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مل دیا جائے میت کے بالوں اور داڑھی میں کنگھی نہ کی جائے اور نہ ناخن و بال کترے جائیں۔ اسی طرح جس میت کی ختنہ نہ ہوئی ہو اس کی ختنہ بھی نہ کی جائے۔ ان تمام چیزوں سے فارغ کر کفنا دیا جائے۔
Top