Mishkaat-al-Masabih 3805صحیح

جہاد کا بیان

عَن أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفَّرُ عَنَى خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌّ غَيْرُ مُدْبِرٍ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِي ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ، بہترین اعمال میں سے ہیں ۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ ہاں ، اگر تو اس حال میں شہید کر دیا جائے کہ تو صبر کرنے والا ، ثواب کی امید رکھنے والا ، آگے بڑھنے والا ہو اور پیچھے ہٹنے والا نہ ہو ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کیا کہا تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ مجھے بتائیں اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تو صبر کرنے والا ، ثواب کی امید رکھنے والا ، پیش قدمی کرنے والا ہو اور پیچھے ہٹنے والا نہ ہو ، البتہ قرض معاف نہیں ہو گا ، کیونکہ جبریل ؑ نے اس بارے میں مجھے یہی کہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔