Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (4407 - 4503)
Select Hadith
4407
4408
4409
4410
4411
4412
4413
4414
4415
4416
4417
4418
4419
4420
4421
4422
4423
4424
4425
4426
4427
4428
4429
4430
4431
4432
4433
4434
4435
4436
4437
4438
4439
4440
4441
4442
4443
4444
4445
4446
4447
4448
4449
4450
4451
4452
4453
4454
4455
4456
4457
4458
4459
4460
4461
4462
4463
4464
4465
4466
4467
4468
4469
4470
4471
4472
4473
4474
4475
4476
4477
4478
4479
4480
4481
4482
4483
4484
4485
4486
4487
4488
4489
4490
4491
4492
4493
4494
4495
4496
4497
4498
4499
4500
4501
4502
4503
مشکوٰۃ المصابیح - آداب کا بیان - حدیث نمبر 2225
وعن جابر قال عطش الناس يوم الحديبية ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين يديه ركوة فتوضأ منها ثم أقبل الناس نحوه قالوا : ليس عندنا ماء نتوضأ به ونشرب إلا ما في ركوتك فوضع النبي صلى الله عليه و سلم يده في الركوة فجعل الماء يفور من بين أصابعه كأمثال العيون قال فشربنا وتوضأنا قيل لجابر كم كنتم قال لو كنا مائة ألف لكفانا كنا خمس عشرة مائة . متفق عليه
انگلیوں سے پانی کا معجزہ
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ مقام حدیبیہ میں ( ایک دن ایسا ہوا کہ پانی کی شدید قلت کے سبب) لوگوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا تھا ( اور اس میں بہت تھوڑا سا پانی بچا) لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کے لئے بالکل پانی نہیں ہے، بس وہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ ﷺ کے لوٹے میں بچ گیا ہے ( اور ظاہر ہے) کہ اس سے سب لوگوں کا کام نہیں چل سکتا) آپ ﷺ نے ( یہ سن کر) اپنا دست مبارک اس لوٹے ( کے اندر یا اس کے منہ) میں ڈال دیا اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے اس طرح پانی ابلنے لگا جیسے چشمے جاری ہوگئے ہوں۔ حضرت جابر کا بیان ہے ہم سب لوگوں نے خو پانی پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابر سے پوچھا گیا کہ اس موقع پر تم سب کتنے آدمی تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ ( آدمی) ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا، ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم سب لوگوں نے خوب پانی پیا کتنے قابل رشک تھے وہ لوگ جن کو اس مقدس پانی کے پینے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس کے طفیل میں ظاہر و باطن کی کیسی پاکیزگی ان کو حاصل ہوئی، کیونکہ زمین و آسمان میں اس پانی سے زیادہ افضل اور کوئی پانی نہیں تھا۔ اگر ہم ایک لاکھ ہوتے حضرت جابر کا یہ جواب ایک لطیف طنز تھا، کہ بھلا معجزہ کے معاملہ میں کمیت کے بارے میں پوچھنا بھی کوئی بات ہوتی! تاہم انہوں نے بعد میں واضح جواب دیا کہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی نیز انہوں نے ایک پانچ سو کہنے کے بجائے پندرہ سو اس نکتہ کے پیش نظر کہا کہ کثرت کا جو شدید تاثر پندرہ سو کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے وہ ایک ہزار پانچ سو کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا علاوہ ازیں بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مقام حدیبیہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے وہ الک الک جماعتوں کی صورت میں تقسیم تھے اور ہر جماعت ایک سو افراد پر مشتمل تھی۔ لہٰذا حضرت جابر نے پندرہ سو کے ذریعہ پندرہ جماعتوں کی طرف اشارہ کیا۔
Top