مؤطا امام مالک - کتاب حدوں کے بیان میں - حدیث نمبر 1006
عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ کَانَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَی أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ قَالَ مَالِک لَا حَدَّ عِنْدَنَا إِلَّا فِي نَفْيٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَی أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِکَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَی مَنْ قَالَ ذَلِکَ الْحَدُّ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَی رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ کَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوکَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ
حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان
عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ دو مردوں نے گالی گلوچ کی حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ایک نے دوسرے سے کہا قسم اللہ کی میرا باپ تو بدکار نہ تھا نہ میری ماں بدکار تھی حضرت عمرنے اس بات میں مشورہ کیا ایک شخص بولا اس میں کیا برائی ہے اس نے اپنے باپ اور ماں کی خوبیاں بیان کیں اور لوگوں نے کہا کیا اس کے باپ اور ماں کی صرف یہی خوبی تھی ہمارے نزدیک اس کو حد قذف مارنی چاہیے کہا مالک نے ہمارے نزدیک حد نہیں ہے مگر قذف میں یا نفی میں (نفی کہتے ہیں نسب دور کرنے کو مثلا یہ کہنا تو اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہے) یا تعریض میں (یعنی اشارے کنائے میں کسی کو گالی دینا جیسے ابھی بیان ہوا) ان سب صورتوں میں حد پوری پوری لازم آئے گی لیکن یہ ضروری ہے کہ تعریض سے نفی یا قذف مقصود ہونا معلوم ہوجائے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جب کوئی کسی کو اسی کے باپ سے نفی کرے تو حد واجب ہوگی اگرچہ اس کی ماں لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔
Top