Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6073 - 6106)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 4656
وعن عقبة بن عامر قال لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ما النجاة ؟ فقال أملك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك . رواه أحمد والترمذي
دنیا وآخرت نجات کے ذریعے
اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو تمہارا گھر تمہاری کفایت کرے اور اپنے گناہوں پر روؤ۔ (احمد، ترمذی)
تشریح
لفظ، املک، الف کے زبر اور لام کے زیر کے ساتھ ہے لیکن حضرت شیخ عبدالحق نے الف کے زیر کو ترجیح دی ہے اس جملہ کے ایک معنی شارخ نے یہ لکھے ہیں کہ اپنی زبان کو ایسی چیزوں اور باتوں سے صاف رکھو جن میں خیرو بھلائی نہیں ہے لیکن اس جملہ کے زیادہ صحیح معنی یہ ہیں کہ اپنی زبان کو بند رکھو کہ گویا تم اپنے تئیں اپنے امور کی نگہداشت رکھتے ہو۔ یعنی اپنے دین کے معاملہ میں محتاط و پرہیز گار اور اپنے حالات کوائف پر متوجہ ہونا ظاہر ہے کہ جب تم اپنے معاملات میں محتاط پرہیز گار ہو گے اور اپنے احوال و کوائف پر متوجہ رہ کر اپنی برائیوں اور بھلائیوں پر نظر رکھو گے تو راہ نجات تمہارے سامنے ہوگی۔ تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے کا مطلب یہ ہے کہ بری مجلسوں اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی خاطر یکسوئی اختیار کرو اپنے اپنے گھر سے اسی وقت باہر نکلو جب نکلنے کی ضرورت پیش آئے اور اس یکسوئی و گوشہ نشینی کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہو بلکہ اس کو غنیمت جانو کیونکہ یہ چیز بہت سے فتنہ فساد و برائیوں سے نجات پانے کا ذریعہ ہے اسی لئے کہا گیا ہے،، ھذا زمان السکوت وملازمۃ البیوت والقناعۃ بالقوہ الی ان تموت۔ طیبی کہتے ہیں کہ ویسعک بیتک میں حکم ظاہر مورد تو گھر ہے لیکن حقیقت میں اس حکم کا مورد مخاطب ہے گویا اس ارشاد کے ذریعہ مخاطب کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے گھر میں یکسوئی اور گوشہ نشینی اختیار کر کے مولیٰ کی عبادت میں مشغول رہو۔ اپنے گناہوں پر رونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی خطاؤں اور اپنی تقصیرات پر نادم و شرمسار ہو کر طلب مغفرت کے لئے اللہ کے حضور گڑا گڑاؤ اور خشوع خضوع اختیار کرو اور اگر رونا نہ آئے تو کم سے کم رونے کی صورت بنا لو۔
Top