Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 5146
عن أبي عبد الرحمن الحبلي قال سمعت عبد الله بن عمرو وسأله رجل قال ألسنا من فقراء المهاجرين ؟ فقال له عبد الله ألك امرأة تأوي إليها ؟ قال نعم . قال ألك مسكن تسكنه ؟ قال نعم . قال فأنت من الأغنياء . قال فإن لي خادما . قال فأنت من الملوك . قال عبد الرحمن وجاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو وأنا عنده . فقالوا يا أبا محمد إناوالله ما نقدر على شيء لا نفقة ولا دابة ولا متاع . فقال لهم ما شئتم إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله لكم وإن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان وإن شئتم صبرتم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا . قالوا فإنا نصبر لا نسأل شيئا . رواه مسلم
فقر پر صبر کرنے کی فضیلت
حضرت ابوعبدالرحمن جبلی (رح) (جن کا اصل نام عبداللہ بن زید مصری ہے اور جن کا شمار ثقہ تابعین میں ہوتا ہے) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا، جب کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا اور کہا کہ کیا ہم ان فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں جن کے بارے میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ وہ دولتمندوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے؟ حضرت عبداللہ نے یہ سن کر اس شخص سے پوچھا کہ کیا تم بیوی والے کہ جس کے پاس تمہیں سکون قرار ملتا ہو؟ اس شخص نے کہا کہ ہاں پھر حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مکان ہے جس میں تم رہائش اختیار کرو؟ اس شخص نے کہا کہ ہاں مکان بھی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا تو پھر تم دولتمندوں میں سے ہو (یعنی تم ان مہاجرین کی حیثیت کے آدمی ہو جو فقر و افلاس میں مبتلا نہیں تھے، فقراء مہاجرین میں تمہارا شمار نہیں ہوسکتا کیونکہ ان فقراء کے پاس نہ بیوی تھی نہ گھر بار تھا، یا اگر کسی کے پاس اس دونوں میں سے کوئی ایک چیز تھی تو دوسری چیز سے محروم تھا) اس شخص نے ( جب یہ سنا کہ حضرت عبداللہ نے بیوی اور گھر والا ہونے کی وجہ سے اسے گویا دولتمند کہا ہے تو) کہا کہ میرے پاس ایک خادم بھی ہے (یعنی غلام یا لونڈی) حضرت عبداللہ نے فرمایا تب تو تم بادشاہوں میں سے ہو (یعنی اس صورت میں تو تمہارا شمار رئیسوں اور بادشاہوں میں ہونا چاہئے، تمہیں فقیر مفلس کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا۔ حضرت ابوعبدالرحمن (راوی) نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس تین آدمی آئے، اس وقت میں بھی ان کی خدمت میں حاضر تھا، ان تینوں نے کہا کہ اے ابومحمد! واللہ ہم کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتے، نہ تو خرچ کرنے کی (کہ حج کو جا سکتیں) نہ کسی جانور کی کہ جہاد میں شریک ہو سکیں اور نہ کسی دوسرے سامان کی کہ جس کو فروخت کرے اپنے ضروری مصارف پورا کرسکیں۔ حضرت عبداللہ نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے ساتھ معاونت کروں اور تمہیں اپنے پاس سے کچھ دوں تو تم لوگ پھر کسی وقت آنا میں تمہیں وہ چیز دوں گا جس کا اللہ تمہارے لئے انتظام کر دے گا کیونکہ تمہیں دینے کے لئے اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے اور اگر تم چاہو تو میں تمہاری حالت بادشاہ (امیر معاویہ ؓ سے بیان کر دوں تمہیں اپنی عطاء سے فارغ البال کردیں گے۔ اور سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اگر تم اہل کمال کا رتبہ حاصل کرنا چاہو تو صبر کرو یعنی اپنی اسی حالت فقر و افلاس پر استقامت اختیار کرو، کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فقراء مہاجرین قیامت کے دن جنت میں دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔ ان تینوں نے یہ حدیث سنی تو کہا کہ بیشک ہم صبر و استقامت ہی کی راہ اختیار کرنے کا عہد کرتے ہیں، اب ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے یا یہ کہ اب آئندہ ہم کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ (مسلم)
Top