Mishkaat-al-Masabih 5063ضعیف

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: المجالسُ بالأمانةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ واقتطاع مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ» فِي «بَاب المباشرةِ» فِي «الْفَصْل الأول»\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین مجالس ، (جہاں) ناحق قتل کرنے یا زنا کرنے یا ناحق مال حاصل کرنے کے متعلق باتیں ہو رہی ہوں ، کے علاوہ مجالس (کی باتیں) امانت ہوتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n اور ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کہ :’’ بے شک بڑی امانت ‘‘ باب المباشرۃ کی فصل اول میں ذکر ہو چکی ہے ۔\n