Mishkaat-al-Masabih 1277صحیح

وتر کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ\nوَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\n
ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کیا امیر المومنین معاویہ ؓ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں ۔\n اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابن ملیکہ ؒ نے فرمایا : معاویہ نے نماز عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی ، اور ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس تھے ، انہوں نے ابن عباس ؓ کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی ﷺ کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے ۔ رواہ البخاری ۔\n