Mishkaat-al-Masabih 1632صحیح

نزع کے عالم میں مبتلا شخص کے پاس کیا کہنا چاہیے

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّا نسمَة الْمُؤمن طير طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور
عبدالرحمن بن کعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درخت سے کھاتی ہے حتیٰ کہ اللہ جس روز اسے اٹھائے گا تو اسے اس کے جسم میں لوٹا دے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و النسائی و البیھقی ۔