Mishkaat-al-Masabih 1637صحیح
میت کو غسل اور کفن دینے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ن فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْم الْقِيَامَة ملبيا»\nوَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ خَبَّابٍ: قَتْلُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ\n
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حالت احرام میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا تو اس کی اونٹنی نے اسے نیچے گرا کر اس کی گردن توڑ دی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے انہیں (احرام کے) دو کپڑوں میں کفن دو ، اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کے سر کو ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے روز تلبیہ پکارتا ہوا اٹھے گا ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ہم مصعب بن عمیر ؓ کی شہادت کے متعلق خباب ؓ سے مروی حدیث جامع المناقب کے باب میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے ۔ متفق علیہ ۔