Mishkaat-al-Masabih 1875صحیح

سخاوت کی فضیلت اور بخل کی مذمت کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَت سَوْدَة أَطْوَلهنَّ يدا فَعلمنَا بعد أَنما كَانَت طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زَيْنَبُ وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَسْرَعكُنَّ لُحُوقا بَين أَطْوَلكُنَّ يَدًا» . قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ؟ لِأَنَّهَا كَانَت تعْمل بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّق
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، ہم میں سے سب سے پہلے آپ سے کون ملیں گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں ۔‘‘ وہ لکڑی لے کر اپنے بازو ناپنے لگیں ، تو سودہ ؓ کے ہاتھ ان میں سے زیادہ دراز تھے ، پھر ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ہاتھ لمبے ہونے سے مراد ، صدقہ تھی ، اور ہم میں سے زینب ؓ سب سے پہلے آپ سے جا ملیں ، اور وہ صدقہ کرنا پسند کیا کرتی تھیں ۔ بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں لمبے ہاتھ والی مجھے سب سے پہلے ملے گی ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں : وہ یہ جاننے کے لیے ان میں سے کس کے ہاتھ دراز ہیں وہ باہم ہاتھ ناپا کرتی تھیں ، پس زینب ؓ کے ہم میں سے ہاتھ زیادہ لمبے تھے ، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔