سنن ابنِ ماجہ - نماز کا بیان - حدیث نمبر 1058
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ فَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ کَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدَةٍ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُکَهَا وَلَنْ أَتَعَدَّی أَمْرَ اللَّهِ فِيکَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّکَ اللَّهُ وَإِنِّي لَأُرَاکَ الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُکَ عَنِّي ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ أَرَی الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا کَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي فَکَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَائَ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ
نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
محمد بن سہل تمیمی ابویمان شعیب عبداللہ بن ابی حسین نافع بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور اس نے کہنا شروع کردیا کہ اگر محمد اپنے بعد حکومت میرے سپرد کردیں تو میں ان کی اتباع کرتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے کافی آدمیوں کے ہمراہ (مدینہ) آیا نبی ﷺ اس کی طرف تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور نبی ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ مسیلمہ کے پاس ان کے ساتھیوں میں جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا اگر تو مجھ سے لکڑی کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں گا اور میں تیرے بارے میں اللہ کے حکم سے ہرگز تجاوز نہ کروں گا اور اگر تو نے (میری اتباع سے) پیٹھ پھیری تو اللہ تجھ کو قتل کرے گا اور میں تیرے بارے میں وہی گمان رکھتا ہوں جو مجھے تیرے بارے میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت ہیں جو تجھے میری طرف سے جواب دیں گے پھر آپ ﷺ اس سے واپس تشریف لائے ابن عباس ؓ نے کہا میں نے نبی ﷺ کے قول کے بارے میں کہ تیرے بارے میں وہی گمان کرتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے، پوچھا تو ابوہریرہ ؓ نے مجھے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے سوتے ہوئے دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں جن سے مجھے فکر پیدا ہوگئی تو خواب میں ہی میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں (کنگنوں) پر پھونک مارو میں نے انہیں پھونکا تو وہ اڑ گئے میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ دو جھوٹے میرے بعد نکلیں گے پس ان میں سے ایک عنسی صنعاء کا رہنے والا ہے اور دوسرا مسیلمہ یمامہ والا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Musailima al-Kadhdhab (the greater liar) (who claimed prophethood after the death of the Holy Prophet) came during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ to Madinah and said: If Muhammad assigns his caliphate to me after him I would follow, and there came along with him a large body of persons of his tribe and there came to him Allahs Apostle ﷺ along with Thabit bin Qais bin Shammas and the Prophet ﷺ of Allah ﷺ had a piece of wood in his hand until he came in front of Musailima in the company of his companions and said: If you were to ask even this (wood), I would never give it to you. I am not going to do anything against the will of God in your case, and if you turn away (from what I say) Allah will destroy you. And I find you in the same state which I was shown (in the dream) and here is Thabit and he would answer you on my behalf. He (the Holy Prophet) then went back. Ibn Abbas said: I asked the (meanings of the) words of Allahs Apostle ﷺ : "You are the same what I was made to see about you in my dream." and Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: While I was sleeping I saw in my hands two gold bangles. This had a disturbing effect upon me and I was given a suggestion in the sleep that I should blow over them, so I blew over them and they were no more. And I interpreted these (two bangles) as the two great liars who would appear after me and the one amongst them was Anasi the inhabitant of Sana and the other one Musailima the inhabitant of Yamama.
Top