Sunan An Nasai 56صحیح
پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠) ، الأدب ٨٠ (٦١٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤١١١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٣٨ (٣٨٠) مفصلاً ، سنن الترمذی/فیہ ١١٢ (١٤٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٨ (٥٢٩) ، مسند احمد ٢/٢٨٢، ویأتي عند المؤلف برقم : (٣٣١) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 56
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A Bedouin stood up and urinated in the Masjid, and the people started shouting. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Leave him alone, and spill a bucket of water over his urine. For you have been sent to make things easy for people, you have not been sent to make things difficult.” (Sahih)