Sunan An Nasai 1371صحیح
نماز جمعہ چھوڑنے کی وعید کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثَانِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ.
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا : لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ١ ؎ اور وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے ٢ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٢ (٨٦٥) (وفیہ ” أبو ھریرة “ بدل ” ابن عباس “ )، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٧ (٧٩٤) (تحفة الأشراف : ٥٤١٣، ٦٦٩٦) ، (وفیہ ” الجماعات “ بدل ” الجمعات “ )، مسند احمد ١/٢٣٩، ٢٥٤، ٣٣٥ و ٢/٨٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١١) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: گویا مسلسل جمعہ کا چھوڑنا ایسا خطرناک فعل ہے جس سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد انسان کے لیے اخروی فلاح و نجات کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ ٢ ؎: غافلوں میں سے ہوجائیں کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے بالکل بےپرواہ ہوجائیں گے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1370
It was narrated from Al-Hakam bin Mina that: He heard Ibn Abbas and Ibn Umar narrated that while he was on the minbar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People should stop negleting jumuah or Allah (SWT) will place a seal on their hearts and they will be deemed as being among the negligent."