Sunan An Nasai 1924صحیح
جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّفَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا ؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ.
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی (رض) کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، تو علی (رض) نے کہا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٥) ، مسند احمد ١/١٤١، ١٤٢، ٤/٤١٣ (صحیح الإسناد )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1923
It was narrated that Abu Mamar said: "We were with Ali and a funeral passed by him, and they stood up for it. Ali said: "What is this? They said: The command of Abu Musa. He said: Rather the Messenger of Allah stood up for a Jewish funeral but he did not do it again."